Thursday, 7 February 2013


کالاباغ ڈیم ناگزیر ھے

                                 """""""""""" 2 """""""""""""""""
 ھماری خوش قسمتی ھےکہ وطن عزیز کے پانیوں پر ایک لاکھ میگاواٹ + بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس سےکم ازکم100% رقبہ زیر کاشت لایاجاسکتاھے مگر مُلک دُشمن عناصر بھارت،اسرائیل اورامریکہ کےھاتھوں میں کھیلنےکےسبب کالاباغ ڈیم کی مُخالفت پرکمربستہ ھیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلہ میں صوبہ سندھ اور صُوبہ خیبر پُختُون خواکےاعتراضات اسی سلسلےکی کڑی ھیں ورنہ توسندھ کوکیااعتراض ھو سکتاھے جس کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں اورسرکڑاھی میں ھے اورنئے ڈیم بننے کےسبب صوبہ سندھ کو رُولز کےمطابق 37% پانی مل سکتاھے۔ اس طرح سندھ کالاباغ ڈیم سے فائدہ میں رھےگا۔ جبکہ اےاین پی نوشہرہ کارڈ استعمالکررھی ھےکہ نوشہرہ ڈُوب جائےگا،اس سلسلے میں 1991ءمیں کونسل آف کامن انٹرسٹ کے ذریعے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں کالا باغ ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے ڈیم کی اونچائی 15 فٹ کم کر دی گئی‘ جس سے ڈیم کی Capacity 7 ملین ایکڑ فٹ کے بجائےچھ اعشاریہ دو ملین ایکڑ فٹ رہ گئی۔ اور یوں 20 مارچ 1991ءکو پانی کا معاہدہ منظور ھوگیا،اُس وقت کے وزیراعلیٰ میر افضل خان آف مردان اور وزیر خزانہ نوابزادہ محسن علی خان آف کرک نے شرکت کی۔یادھےکہ نوابزادہ صاحبب کاتعلق اےاین پی سےھے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما خان عبدالولی خان جن کی پارٹی واٹر اکارڈ 1991ءکے وقت فرنٹیئر حکومت کا انتہائی اہم حصہ تھی‘ جن کا بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے‘ انہوں نے کہا۔ ”میں پانی کی تقسیم کے معاہدہ سے مکمل طورپرمطمئن ہوں‘ یہ پہلا موقع ہے کہ اختلافات کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کو بنیاد بنا کر صوبوں نے بہترین آغاز کیا ہے‘ اور اس سے مسائل یقیناً حل ہوں گے

No comments:

Post a Comment