1 مَلِک کرپلیاں کا ایک ورق
کرپلیاں ھری پُور ھزارہ کے ایک معروف گاؤں کا نام ھے جو کسی زمانہ میں
ھزارہ کا دِل کہلاتا تھا،اِس گاؤں میں خُدوال،پنڈوال،حلوال اور گل خیلی برادریوں
کی اکثریت ھے،یہ گاؤں کزنز گاؤں کے نام سے بھی مشہور رھا ھے ،کہتے ھیں
کہ جب خُدوال برادری نے اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہا تو یہ قافلہ مُختلف علاقوں سے ھوتے ھوئے مردان اور بونیر سوات پہنچا تو وھاں ایک میان میں دو تلواروں
کا سما جانا ناممکن قرار پایا جِس کے سبب کُوچ کرنے کا حُکم دے دیا گیا،اس موقع پر پنڈوال برادری کی درخواست پر ان کی ایک ٹولی کو بھی
کارواں کا ایک حصّہ بنا دیا گیا،جس طرح کافرستان میں آج بھی یونانیوں کی
ایک نسل آباد ھے اسی طرح بچھڑ جانے والے پنڈوال آج بھی مردان اور سوات
وغیرہ کے مضافات میں پائے جاتے ھیں جنھیں کسی دور میں کاشت کے لئے سرکاری زمینیں دی گئی تھیں ،1970 تا 1973 تک کرپلیاں سے تعلق رکھنے والے افراد مردان جایا کرتے تھے اور وھاں بسنے والے اِن کی بہت
آؤ و بھگت کیا کرتے تھے آخری مرتبہ ماما خان بہادر لندن سے مردان گئے تھے جہاں انہیں عزت سے نوازا گیا،وہاں کے پنڈوال زمینی تنازعات میں اُلجھے ھُوئے ھیں اور حقائق سے لاعلم خان بہادر ماما نے وھاں مسئلہ کشمیر کو چھیڑ دیا یعنی جائداد کی تقسیم کے فارمولے پر بات چیت شروع
کر دی جس کے سبب تنازعہ نے طُول پکڑ لیا مگر وھاں موجود ایک بزرگ نے
کہا کہ انہوں نے اس مسئلہ پر محض بات کی ھے اس لئے اسے ایشو نہ
بنایا جائے،ساتھ ھی کہا کہ آپ ایسے شخص کے دوست ھیں جن کی ھم
بہت زیادہ عزت کرتے ھیں اس لئے آئندہ قدرے احتیاط سے کام لیا کریں،مسئلہ رفع دفع ھو گیا لیکن اُس کے بعد پنڈوال برادری سے تعلق رکھنےوالا کوئی شخص بھی تربت پر پُھول چڑھانے کے لئے نہیں گیا تاہم اصل الا اُصولِ ارتجال ان کے آپس کے تعلُقات منقطع ضرور ھُوئے
کرپلیاں اور پاکستان کے دیگر حصّوں سے تعلق رکھنے والے مَلِک نہ تو آپس میں
, رشتہ دار ھیں اور نہ ھی ان کا آپس میں تقابلی موازنہ کیاجا سکتا ھے۔ پاکستان کے دیگر حصّوں میں بسنے والے ملک اختیارات کے حامل رھے ھیں
انگریزوں سے کئی کئی مربعّوں پر مشتمل زمینوں کے ٹُکڑے بھی حاصل
کر چُکے ھیں جبکہ اپنے اپنےعلاقہ میں اثر و رسوخ کے مالک بھی ھیں
اور اُن میں سے بیشتر کو تو کئی جگہوں پر ایسے مقام سے نوازا گیا ھے
کہ اب بھی اُن کی اجازت کے بغیر کسی کام کا آغاز تک نہیں کیا جا سکتا ا
جبکہ ھمارے یہ بھائی ملِک وزیرِ بے محکمہ کی مانند اپنے آپ کو تسلیم کروانے میں
اپنی زندگی کا قیمتی حصّہ صرف کرنے میں مگن رھتے ھیں اُس کی بنیادی وجہ یہ ھے کہ انگریزوں کو مُختلف قصبات سے تعلق رکھنے والے افراد کی سماجی حیثیت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل تھیں
ابتدا میں کرپلیاں کا ایک بزرگ نمبردار مقرر ھُوا تھا جسے بعض لوگ ملک بھی
کہتے تھے جس کا تقرر زندگی بھر کے لئے نہیں بلکہ معینہ عرصہ کے لئے تھا
یہ نمبردار انگریزوں کے گھوڑوں اور اصطبل کی رکھوالی ،انگریزوں کی حمایت اور
مُخالفت کی خبروں کی فراہمی کو بخوشی سرانجام دیا کرتا تھا،نیز گاؤں کے
بچوں کی پیدائش کا اندراج ، زمینوں کی بابت و مالیت کا تحصیل میں داخلِ دفتر کرنااور ڈاک کی ڈلیوری وغیرہ کے فرائض انجام دیا کرتا تھا،یہ نمبردار خبری اور
اندراجی کے نام سے بھی مشہور تھا اپ آتے ھیں کرپلیاں کے اُس محلہ کی جانب جسے مشُوماں/ماشوماں کہتے ھیں جو کہ زیادہ تر موضوع لَہ‘ ھے،اس مشُوماں میں
پہلا تعمیر ھونے والا گھر بابا فیض علی خان کے بُزرگوں نے تعمیر کروایا تھا،اب اُس گھر میں بابا فیض علی خان کا فرزند دِل بند چیف صاحب بمعہ بال بچّوں کے مُقیم ھیں جنہیں تاریخ تنولیاں پر مکمل عبور حاصل
ھے،چیف صاحب سے ایک مرتبہ کھیلوں کا تذکرہ کیا گیا تو وہ کسی گہری سوچ میں گُم ھو گئے بعد میں پتہ چلا کہ آرمڈ فورسز کے منعقدہ مُقابلوں میں متعدد انعامات جیتنے کے بعد اولمپک کھیلوں کے مقابلوں میں حصّہ لینے کے لئے مُنتخب کر لئے گئے تھے مگر بد قسمتی ملاحظہ ھو کہ ایک ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی
ھونے کی بنا پر کافی عرصہ تک صاحبِ فراش رھے جس کے سبب شرکت
کرنے سے قاصر رھے ،علاوہ ازیں ماشوماں میں پنڈوال برادری کی جانب سے
پہلے گھر کی تعمیر کا اعزاز لطیف ماما کے سر ھے جو کہ تھانیدار صاحب
کے نام سے بھی مشہور ھیں اور اپنی زندگی میں گاؤں کی جانی پہچانی
شخصیت تھے،مشوماں میں پنڈوال برادری سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد
کے مکانات بھی موجُود ھیں۔ اب میاں مِٹھُو کی شہنشاہیت کے بارے میں کُچھ عرض کرنا چاھوں گا کہ باشندگانِ کرپلیاں کو یہ اعزاز حاصل ھے کہ اُنہوں نے
کبھی کسی کے سامنے
سرخم نہیں کیا،خواہ دورِسکھاشاہی ھو یا دورِ فرنگی ۔ھر دور میں اپنی جُداگانہ
حیثیت کو ثابت کرتے رھے ھیں،یہاں تک کہ سکھ آرمی کے خلاف سیسہ پلائی
ھوئی دیوار بننے والے باشندگانِ کرپلیاں ھی تھے مگر جب نواب آف دربند نے اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کی کوشش کی تو کرپلیاں کے سرفروش خم ٹھونک کر سامنے آگئے اور یوں کرپلیاں اُن کی عملداری میں نہ آسکا،ب یہ سمجھنا مشکل نھیں کہ جو لوگ سکھوں،انگریزوں اور نوابوں کے خلاف بھڑ
جانے کی صلاحیتوں کے حامِل ھوں تو اُن سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی
ھے کہ وہ کسی نمبردار یا ملک وغیرہ کو گاؤں کے متولی یا سربراہانِ کرپلیاں
تسلیم کر لیں،لیکن یہاں ھم نئی نسل کو دوش نہیں دے سکتے کیونکہ
قصُور اُن لوگوں کا ھے جو پیر پرستوں کی مانند گھڑی ھُوئی کہانیوں سے دوسروں کو قائل کرنے میں ھی عافیت سمجھتے ھیں اور یہی کُچھ کرپلیاں
میں بھی ھو رھا ھے حالانکہ اسلام میں ایسی چیزوں کی کوئی گُنجائش
نہیں،اِسلام میں نہ تو کوئی بادشاہ ھے اور نہ ھی کوئی ملک ھے کیونکہ
ملک اور بادشاہ صرف اور صرف اللہ عز و جل کی ذات قرار پاتی ھے اس لئے
احساسِ برتری کا سبق لا حاصل ھے
گر ہمی مکتب است و ہمی مُلاّ
کارِ طفلاں تمام خواہد شُد قافلے میں شامل کردہ بزرگ اگر آج زندہ ھوتے اور اپنی اِس پِیڑی کو یوں اِتراتے
اور دوسروں سے اپنے آپ کو افضل سمجھتے ھُوئے دیکھتے تو اُنہیں انتہائی
دُکھ ھوتا کہ ھماری یہ نسل کِس ڈگر پر چل پڑی ھے اور انہوں نے کیوں اُن قربانیوں پر پانی پھیردیا ،یہ اور اس قسم کے کئی سوالات ھیں جن پر سوچنے
کی ضرورت پہلے سے بھی بڑھ کر ھے۔
میرے ہاتھوں سے تراشے ھُوئے پتھر کے صنم
آج بُت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ھیں
علاوہ ازیں کرپلیاں میں کافی عرصہ تک پنچایت/جرگہ کا ایک مؤثر نِظام موجود
رہا ھے جس میں بلا تخصیص مظلومین کی دادرسی ھوتی رھی ھے جرگہ کے اراکین کے چُناؤ میں احتیاط سے کام لیا جاتا تھا جرگہ پر کسی گروپ یا
کسی شخصیت کی کبھی اجارہ داری نہیں رھی کیونکہ کرپلیاں میں کبھی
بھی وڈیرہ شاھی نھیں رھی اور نہ ھی کسی کو تیس مار خان بننے کی اجازت دی جا سکتی ھے لہٰذا پدرِمن سُلطان بُود کے درس دینے سے اجتناب
برتنا چاھئے۔اب صرف ایک ھی عرض ھے کہ
نہ چھیڑ ملنگاں نُوں


