Thursday, 7 February 2013

پاکستان کی بقا کے لئےکالاباغ ڈیم ناگزیر ھے تحریر: ریاض خان ھزاروی


13 at 02:31 ·
پاکستان کی بقا کے لئےکالاباغ ڈیم ناگزیر ھے

      تحریر: ریاض خان ھزاروی
جب کبھی بھُوک کی شدت کا گِلہ کرتا ھُوں وہ عقیدوں کے غبارے مُجھے لا دیتے ھیںکوئی ایسا جُرم نہیں ھوتا جو پرفیکٹ جُرم کے زُمرے میں آئے کیونکہ جُرم کی نوعیت ابنارمل حالت میں سرزد ھوتی ھے جس سے مجرم کی ذھنیت کُھل کر سامنے آجاتی ھے اور وھی غلطی مقامِ جُرم تک ُمُمد ثابت ھوتی ھے جیسے ایک قاتل بوری بند لاش کسی ایک مقام پر پھینک دیتا ھے مگر اُس کے دیگر اعضاء مُختلف مقامات پر بکھیرنے سے وہ یہ سمجھ بیٹھتا ھے کہ وہ قتل کے نشانات یکمُشتمِٹا چُکا ھے مگر اُس کی تیکنیکی غلطیاں ھی یہی ھوتی ھیں کہ وہ اُتنے ھی مقامات پر اپنے جُرم کے نشانات بھی چھوڑتا ھُوا آگے بڑھ جاتا ھے مگر قانُون کے شکنجے سے بچ نھیں پاتا اور اُس کے وھی نشانات فرینزک ٹیم کے لئے ثبُوت فراھم کرنے کا سبب بنتے ھیں،اِسی پس منظر میں باچا خان نے جنگ آزادی میں اپنے کانگریسی دوستوں کے ھمراہ حصّہ تو لیا جو کہ قابلِ قدر ھے مگر ہندُو بنیا کو باچا خان کی صُورت میں ا ایک اسا ہتھیار ھاتھ لگ گیا جسے وہ پالِش کرنے کے بعد ھر موقع پر اِستعمال کرتا رھا خواہ وہ صُوبہ سرحد میں بِلاوجہ ریفرنڈم کا مسئلہ ھو یا افغانستان کی لڑائی یا ڈیم وغیرہ بنانے کا مسئلہ۔الغرض ھر مقام پر ایسی ھی پالیسی کو برقرار رکھا جہاں انڈیا،رُوس اور امریکہ کے مفادات کو تقویت پُہنچائی جا سکے،اب سوچنے کا امر یہ ھے کہ جس بات کا اعتراف سُپریم کورٹ میں کیا جا چُکا ھے اُسے اگر نیشنل عوامی پارٹی نے تسلیم نھیں کیا تو تردید بھی نہیں کی اور نہ ھی کسی قسم کی صفائی پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ خان عبدالغفار خان اور خان ولی خان پر انڈیا ھمیشہ کیوں مہربان رھا ویسے تحریک پاکستان کی حمایت و مُخالفت میں تو مُختلف جُماعتیں شامل تھیں جو کہ اُن کا ایک سیاسی حق تھا جِسے اُنہوں نے استعمال کیا مگر قیامِ پاکستان کے بعد اُن جُماعتوں نے نہ صرف عملی طور پر پاکستان کی حمایت کی بلکہ بھارت سے مُکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار بھی کر دیا جبکہ باچا خان کا خاندان یہ سب کُچھ نہ کرسکا اور نہ ھی نیشنل عوامی پارٹی یا موجُودہ عوامی نیشنل پارٹی کے کسی ھمدرد نے پارٹی رھنُماؤں سے کپھی پُوچھنے کی زحمت گوارا کی کہ بِالآخر آپ کس خُوشی میں روپوں کے تھیلے وصُول کر رھے ھیں آب اِسلام اور اِصلاحی ناموں سے تنظیمیں تو بنا رھے ھیں لیکن اُس کے لئے پیسہ بھارت سے آرھا ھے جب بھارت نے ٹریننگ کیمپوں کے لئے رقم فراھم کی تھی تو وہاں نہ تو مدر ٹریسا کی حکومت تھی اور نہ ھی اِسلامی حکومت قائم تھی کہ جسے آپ ثبُوت کے طور پر پیش کرتے اور یہ مدد کوئی خُدا واسطے کی بنیاد پر فراھم نھیں کی گئی بلکہ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبہ کے خاتمے اور پاکستان کو انتشار سے دوچار کرنے کے لئے استعمال کی گئی قصّہ مختصر کہ سرزمین کا وہ ٹُکڑا جو پاکستان کے نام سے موسُوم ھے اور اسی ٹُکڑے کو باچا خان نےبظاہر تو تسلیم کیا لیکن اِسے مذید ٹُکڑوں میں تقسیم کرنے کا خواب لے کر رُخصت ھو گئے مگراپنے پیجھے جُرم کا ثبُوت بھی چھوڑ گئے کیونکہ وہ پاکستان کے خیر خواہ کھی رھے ھی نھیں اور جس زمین پر اُنہوں نے آنکھیں کھولیں اُسی زمین میں اُنہوں نے دفن ھونا پسند نہیں کیا جبکہ ایک مُسلمان وہیں دفن ھونا پسند کرتا ھے جہاں اُس کی موت واقع ھوتی ھے،اگر پاکستان سے اسی قدر نفرت تھی تو اپنے حامیوں کو اپنے ساتھ کُوچ کرنے کا حُکم کیوں نہیں دیا جہاں خود چلا گیا میٹھا میٹھا ھپ ۔ کڑوا کڑوا تُھو جس زمین سے اُسے اِس قدر نفرت تھی اُسی سرزمین پر پہلے سے قائم کردہ عمارتوں بشمُول ایئرپورٹ اور تعلیمی اداروں کو اُن کے ناموں پر کیوں مُختص کیا جا رھا ھے جہاں ان کی جیبوں سے ایک پیسہ تک خرچ نہیں ھُوا، باچا خان اپنی وصیت کے مُطاپق جہاں دفن ھُوئے وھاں کے بگرام ایئرپورٹ کا نام اگر باچا خان ایئر پورٹ رکھ دیا جائے تو ھیں کیا اعتراض ھو سکتا ھے کیونکہ وھاں بھی تو پُشتو زبان بولنے والے بستے ھیں اگر یہاں تعلیمی بجٹ کو دونوں باپ بیٹوں کے حق میں کتابیں لکھنے، باچا خان اور ولی خان کے نام پر یونیورسٹیاں بنانے نیزصرف اور صرف ایک مخصُوص ضلع کے طلباء کے وظائف کے لئے ُمختص کیا جاتا ھے تو اس پر ھم اجتجاج نھہں کرینگے تو کیا خاموشی سے تماشا دیکھتے رھینگے اور اس ضلع کا شُمار اُن علاقوں میں ھوتا ھے جہاں جعلی ڈومیسائل پر کالجوں میں داخلہ لینے تا وضائف وصُول کرنے اور مُلازمتوں پر ترجیحی طور پر تعیناتی تک شامل ھے جبکہ ترجیحی بُنیادوں پر خواہشات کی یہ بلند بانگ عمارتیں دُوسروں کا گلہ کاٹنے اور حقوق کو سلب کرنے کی بُنیاد پر ھی قائم کی جاتی ھیں اور مُملکتِ خُدادادِ پاکستان میں ایسے عواملکاقلع قمع ھونا چاہیے کہ جہاں ایک کی ٹوپی دُوسرے کے سر سجا دی جائے یعنی ایک خطا دو خطا تیسری خطا مادر بخطا


ھماری خوش قسمتی ھےکہ وطن عزیز کے پانیوں پر ایک لاکھ میگاواٹ + بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس سےکم ازکم100% رقبہ زیر کاشت لایاجاسکتاھے مگر مُلک دُشمن عناصر بھارت،اسرائیل اورامریکہ کےھاتھوں میں کھیلنےکےسبب کالاباغ ڈیم کی مُخالفت پرکمربستہ ھیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے سلسلہ میں صوبہ سندھ اور صُوبہ خیبر پُختُون خواکےاعتراضات اسی سلسلےکی کڑی ھیں ورنہ توسندھ کوکیااعتراض ھو سکتاھے جس کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں اورسرکڑاھی میں ھے اورنئے ڈیم بننے کےسبب صوبہ سندھ کو رُولز کےمطابق 37% پانی مل سکتاھے۔ اس طرح سندھ کالاباغ ڈیم سے فائدہ میں رھےگا۔ جبکہ اےاین پی نوشہرہ کارڈ استعمالکررھی ھےکہ نوشہرہ ڈُوب جائےگا،اس سلسلے میں 1991ءمیں کونسل آف کامن انٹرسٹ کے ذریعے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں کالا باغ ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے ڈیم کی اونچائی 15 فٹ کم کر دی گئی‘ جس سے ڈیم کی Capacity 7 ملین ایکڑ فٹ کے بجائےچھ اعشاریہ دو ملین ایکڑ فٹ رہ گئی۔ اور یوں 20 مارچ 1991ءکو پانی کا معاہدہ منظور ھوگیا،اُس وقت کے وزیراعلیٰ میر افضل خان آف مردان اور وزیر خزانہ نوابزادہ محسن علی خان آف کرک نے شرکت کی۔یادھےکہ نوابزادہ صاحبب کاتعلق اےاین پی سےھے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما خان عبدالولی خان جن کی پارٹی واٹر اکارڈ 1991ءکے وقت فرنٹیئر حکومت کا انتہائی اہم حصہ تھی‘ جن کا بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے‘ انہوں نے کہا۔ ”میں پانی کی تقسیم کے معاہدہ سے مکمل طورپرمطمئن ہوں‘ یہ پہلا موقع ہے کہ اختلافات کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کو بنیاد بنا کر صوبوں نے بہترین آغاز کیا ہے‘ اور اس سے مسائل یقیناً حل ہوں گے“۔ عوامی نیشنل پارٹی کے قائد نےبعدمیں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کوتسلیم کرتےھُوئےکہاکہ جب میں ماھرین کے ساتھ مُلاقات کرتاھوں توان کی مدلل رائے سے اتفاق کرناپڑتاھے خیبر پُختُون خوا کی دونوں وادیوں کو دریائے سندھ سےلازِماً آباد کیا جا سکتا ہے۔ ایک وادی مردان نوشہرہ پر مشتمل ہے‘ جبکہ دوسری وادی ڈیرہ اسماعیل خان‘ ٹانک‘ بنوں‘ لکی مروت اور کرک کے وسیع علاقہ پرمُشتمل ہے۔ پہلی وادی کو توکسی نہ کسی طورپر پانی فراہم کیاجارہا ہے‘ لیکن پانچوںجُنوبی اضلاع کی وسیع آباد کاری کیلئے پانی کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے چشمہ بیراج سے رائٹ بنک کینال نکالی گئی‘ جو اب لفٹ اری گیشن کے مہنگے نظام کے تحت انتہائی محدود علاقے کو پانی مہیا کرتی ہے‘ کیونکہ چشمہ کا لیول ڈیرہ اسماعیل خان سے اونچا نہیں ہے‘ اس کے مقابلہ میں کالا باغ ڈیم میں پانی کی سطح 915 فٹ ہو گی‘ جبکہ ڈی آئی خان کی سمندر سے اونچائی تقریباً 570 فٹ ہے‘ اس طرح کالا باغ ڈیم سے ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف بہترین دھلوان ہونے کی صورت میں چار اضلاع ڈی آئی خان ٹانک بنوں اور لکی مروت کے علاوہ تحصیل کرک کو بھی اپ لفٹ اری گیشن کے تحت پانی مہیا کیا جائے گا۔ جس سےان اضلاع میں خوشحالی کی نویدھے تاھم کالا باغ ڈیم کے علاوہ خواہ جیس قدر بھی ڈیم بھی بنا لئے جائیں مگر پانچوں اضلاع کو پانی کسی صورت نہیں مل سکتا کیونکہ اس علاقہ کی جغرافیائی پوزیشن چشمہ سے اونچی ہے اور بیشتر رقبہ بھی شمال میں ہے‘ جسے صرف کالا باغ ڈیم بنا کر ہی زیر کاشت لایا جا سکتا ہے۔ اگراسے اغیار کےہاتھوں میں کھیلنانہیں کہتےتوپھرکیاکہتےھیں یادرھےکہ جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے 1976 میں تربیلا ڈیم کی تکمیل کے فوراً بعد کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے احکامات جاری کئےتھے جس کےبعد مُبشرحسن صاحب اوردیگر انجینئرز نے کالا باغ ڈیم کا سروے اور ڈیزائن بڑی تندہی سے مکمل کیا تھا مگر انتہائی افسوس ھے کہ زرداری حکومت یرغمالیوں کےہاتھوں یرغمال ھوچُکی ھےاور ضرورت اس امرکی ھے کہ عوام عام انتخابات میں طالع آزماؤں کو عبرتکانشان بنادیں تاکہ آئندہ کےلئے کسی کو مُلک کےساتھ کھلواڑ کی جُراءت نہ ھوسکے ۔قارئین المُختصراً عرض ھے کہ بےگھرھونےوالےافرادمُلک کاسرمایہ ھوتے ھیں جن کی آبادکاری حکومت کےفرائض میں شامل ھے اوراُنہیں لازِماً متبادل جگہ فراھم کی جائےگی مگرھمیں یہ سمجھنےکی ضرورت ھے کہ ھماری بےحسی سےنہ صرف ھمارےمُلک کونُقصان ھوگابلکہ ھماراپڑوسی مُلک اس صُورت حال سےفائدہ اُٹھاتےھُوئےاپنےڈیموں کومذیدوسعت دیتےھُوئےھمیں نیچادِکھانےکی کوشش کرےگا۔جبکہ اس ڈیم کی تعمیر متعددفوائدکےساتھ یوں اشکارہ ھوگی کہ اس سےنہ صرف بِجلی کیِ قِلت دُور ھوگی بلکہ زراعتی فائدہ کےساتھ ساتھ ےروزگاری کےتدارک میں بھی مددملےگی۔اس سےنہ صرف پنجاب مُستفیدھوگا بلکہ سندھ اورخیبرپُختُون خوا کےعلاقے بھی سرسبزوشاداب ھونگے جبکہ نہ صرف سیلاب کی تباہ کاریوں کوروکنےمیں کالاباغ ڈیم سیسہ پلائی ھُوئی دیوارثابت ھوگابلکہ اُس پانی کو پاکستان کےتمام صُوبوں کےکام لانے میں بھی اپناکرداراداکرے گا لہٰذا یہ ڈیم پاکستان کی بقاکے لئے ضرُوری ھے،اگر کسی کو کالاباغ ڈیم کےنام سےنفرت ھے توباھمی مشاورت سے اسے کوئی بھی نام دیاجاسکتاھے مگر چھوٹےبچہ کی مانند یہ ضد چھوڑدینی چاھئے کہ” نہ یہ گولی کڑوی ھے میں نہیں کھاؤں گا“۔بعض اوقات مُلک کی بقاکےلئےکڑوی گولی نِگلنی پڑتی ھے۔
نوٹ : میں نے یہ کالم پشاور کے معرُوف ایئر پورٹ کے نام کی تبدیلی سے دو دِن پہلے لِکھا تھا اب اسے مُختصراً پیش کرنے کی جسارت کر رھا ھوں تاھم میرے بعض دوست اس سے ناراض ھو گئے تھے جنہیں آگاہ کرتے ھوئے میں نے کہا تھا کہ سیاست کے اس صحرا میں سب ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے والے نہیں ھوتے پلکہ جہاں حامیوں کا جھمگھٹا ھوتا وھاں مُخالفین کی بھی کمی نھیں ھواکرتی، کیونکہ ٹُوٹے ھُوئے شیشے پُھول نہیں برسایاکرتے۔

پاکستان کی بقا کے لئےکالاباغ ڈیم ناگزیر ھے

No comments:

Post a Comment