الطاف حُسین کی گیدڑ بھبکی اورمیڈیاکی مُسکراہٹ
الطاف حُسین کی گیدڑ بھبکی اورمیڈیاکی مُسکراہٹ
ریاض خان ھزاروی
ایم کیو ایم نےنجانےاس کیوکواپنےنام کےساتھ کیوں نتھی کررکھاھےجوکہ لفظ” قومی “ کے
لئےمُستعمل ھوتاھے جبکہ خوداس تنظیم/ پارٹی کالیڈرایک غیرمُلکی شہری ھے اوراُس مناسبت
سےاس کانام مُتحدہ غیرمُلکی مُوومنٹ ھوناچاھئیےتاکہ اُس غیرمُلکی شہری کوبھی وھی حقُوق حاصل
ھوں جوبلیک واٹرکمپنی کےدیگرمُلازمین کوحاصل ھیں۔گوکہ اُس غیرمُلکی کانام الطاف حُسین
ھے مگرالطاف بھائی کےنام سےجانا جاتاھےگُزشتہ دِنوں الطاف بھائی نےکہاکہ صحافیوں اور
اینکرزپرسنز کو بکواس کاکوئی حق نہیں۔ اس پرریاض خان ھزاروی نےتصدیق کرتےھُوئےکہاھےکہ
الطاف بھائی نےغلط نہیں کہاکیونکہ بکواس کےجُملہ حُقوق الطاف بھائی کے پاس محفوظ ھیں جنہیں صرف وھی
استعمال کرسکتاھے یااُن کی اِجازت سےاُس کےنمائندے اس حق کواستعمال کرسکتےھیں اورویسےبھی
وہ کئی برسوں سےاس حق کواِستعمال کرتارھاھےلہٰذا اس کےاستعمال سے
الطاف بھائی کی حق تلفی ھوگی اوراُمیدھےکہ بھائی کے اس حق کو سلب نہیں
کیاجائےگا۔اوراس سلسلے میں ایم کیوایم کی جدوجہد کی ایک تاریخ ھے کہ کیسے
مُخالف وکلاء کوزندہ جلایاگیا،کیسے فیکٹری مالکان کی جانِب سےکم بھتہ موصول
ھونےپروھاں فیکٹری کوجلاکرخاکسترکرنےکےساتھ ساتھ اِنسانوں کوبھی جلاکر
نیست ونابُودکیاگیاجس کےبعدفیکٹری مالکان کاجوحشرکیاگیاوہ سب کےسامنے
ھے۔دیگرواقعات کوچھوڑیئے بلکہ زرائع ابلاغ سےتعلق رکھنےوالےافرادکوھرگز نہیں
بُھولناچاھئیےکہ اسی حق کےتحفظ کےلئیےایم کیوایم نےکراچی میں اخبارات
کونظرآتش کرناشُروع کیاتواس کےبعدکیسےایک دھمکی پرتمام مدیران نائن زِیرو
پُہنچےتھے اورپھرکیسے ایم کیوایم کےبہادرسپوُتوں نے ایک نشریاتی
ادارے کو یرغمال بناتےھُوئے چھ گھنٹے تک اپنی فائرنگ جاری رکھی تھی اوریہ
وھی حق تھاجس کےلئےکراچی کےشہریوں کی لاشیں گرائی گئیں،یہ اور اس
قسم کی دیگروارداتوں سےثابت ھوتاھے کہ بھائی الطاف حُسین” بکواس “کے
حق کابِلاشرکتِ غیرے مالک ھےاوراُسےاپنے اس حقِ بکواس کوجاری رکھناچاھئیے
الطاف حُسین کی گیدڑ بھبکی
No comments:
Post a Comment