تحریر : ریاض خان ھزاروی
پُتر ھٹاں تے نئیں وِکدے
تحریر : ریاض خان ھزاروی
یہ اُس وقت کی بات ھےجب آتش جواں تھا،بڑےمیاں نےتوبہت محنت کی مگرشہزادے اُس کےنقش قدم پر چل نہ سکے،تاھم مُجھے تاریخ کےاوراق پلٹنےکی ضرورت نہیں اورنہ ھی میں اُس بات کویاددلاناچاھوں گاکہ کیسےرنگیلانےبڑےمیاں صاحب سےکہاتھاکہ پہلوان کےلئےموٹاھونااچھّی بات ھُواکرتی ھے مگراس کامغُز باقی جسم کےمقابلہ میں کُچھ زیادہ ھی موٹاھےاوریہی چیزاس کی اداکاری میں بھی آڑے آرھی ھے،یہ کنڈم ھے میاں جی۔ (پُشتو زبان میں بے کارکےلئےیہ لفظ استعمال ھوتاھے)یعنی یہ ھرقسم کی ٹریننگ کےلئےبےکارھے اوراسی پریشانی میں بڑے میاں صاحب جنرل ضیا صاحب کےپاس پُہنچےاور جرنیل صاحب کےسامنے میاں صاحب نےبیٹےکی کُچھ زیادہ ھی تعریف کردی،جس پرجرنیل صاحب کےماتھے پرکُچھ شکن سی پڑگئ مگرانہوں نےمکمل معلُومات کےنام پر باپ بیٹے کواُس وقت کےگورنرپنجاب لیفٹننٹ جنرل جیلانی کےپاس بھیجاجوکہ بڑے کائیاں آدمی تھے اور اُنہوں نےضرورت مندوں کودیکھتےھی اُن کی ضرورت کوبھانپ لیااوراپنی رہائش گاہ کی ضرورت بھی اُن پرآشکاراکردی اورپھرگل ھی کوئی نی کےتحت خدمات پیش کردی گئیں اور جہاں جیلانی کاعالیشان بنگلہ تعمیر کردیاگیا وھاں نوازشریف کی فائل پر جلّی حرُوف میں لفظ ” سادہ “ تحریرکردیاگیا جواس امرکی غمازی کررھاتھا کہ نوازشریف کی نوکری پر مُہر تصدیق ثبت کردی گئ کیونکہ جنرل ضیاکوسمجھدار سیاست دان ایک آنکھ نہ بھاتے اورجسےسیاست دان کےطورپرمتعارف کراناھوتا تواُسے اس کوڈ”سادہ“ کےمعیار پر پُورااُترناپڑتاتھا،یہی وجہ ھےکہ میاں صاحب اُس کسوٹی پرایسےپرکھےگئے کہ بالآخر آپس میں باپ بیٹابن گئےاورپھرکامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھتے ھی گئے،یہاں تک کہ پھر وزارت عُظمیٰ کےعُہدے پرمُتَمَکِّن ھُوئے جس کی تصدیق اصغر خان کیس سے بھی ھوتی ھے کہ”آنکھ جوکُچھ دیکھتی ھے لب پہ آسکتانہیں “ان کی وزارتِ غُظمیٰ کے دوران جو واقعات پیش آئے اُن میں وہ مشہورواقعہ بھی شامل ھے جب میاں نواز شریف صاحب لندن تشریف لےگئے تھےجہاں اگرایک طرف ڈھول کی تھاپ پرناچنےوالےموجودتھے تووھاں سنجیدہ لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی،مگرجب میاں صاحب جوش خطابت میں بھارتی وزیراعظم کو کشمیر کےمسئلہ پر مباحثےکاچیلنج دے بیٹھےتو وھاں پرموجُود ”زی ٹی وی “کےنمائیندے نےاس سلسلے میں اپنے چینلز کی خدمات پیش کردیں جسے نوازشریف نے بِلاچوں و چرا تسلم کرلیا بس پھرکیاتھاکہ میاں صاحب کی دُھوم مچ گئ اور متوالوں نے اخبارات میں میاں صاحب اور شیر کی تصویروالے اشتہارات دے ڈالے ،ایک صاحب نےتو علی الاعلان کہا کہ اب مزہ آئےگا کہ ھماراشیرکیسے بِلی پرجھپٹتاھے جس کے بعد میاں صاحب جب مقامِ مقررہ پر پُہنچے تواُنہیں جھٹکے پرجھٹکالگا مگرپھربھی انہوں نےاصرار کیا کہ اُردوزبان ھی میں مباحثہ ھوگا جس پراُنہیں یاداشت پیش کی گئی اورکاغذات دکھائےگئے توکاغذات کواُلٹ پلٹ کردیکھنے کےبعد وزیراعظم صاحب پریشان ھوگئے کیونکہ میاں صاحب اُن دنوں گُلابی انگریزی بولاکرتےتھے اور زبانِ یاراں انگریزی تھی تب بڑے سٹپٹائے اور مشاہد حُسین کواُسی طرح آگے کردیا جس طرح ٹیلیفون پر بل کلنٹن کےساتھ گُفتگوکےلئےمشاہدصاحب کوٹیلیفون سونپ دیاکرتےتھے،مگر زی والے بھی ڈٹ گئے کیونکہ جوطریق کارطے ھُواتھا اُس کےتحت ھی پروگرام کوآگے بڑھایا جاسکتاتھااوراُن کےلئے رُولزکی خلاف ورزی آسان نہیں تھی تاھم وہ پروگرام منسوخ کردیاگیا تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
لیکن مُجھے دُکھ ھُوا اوروہ بھی اس لئے کہ لیگیوں کی اشتہاری مہم ناکارہ ثابت ھُوئی اور مُجھےیقین تھاکہ جس لیگی رھنُمانے نوازشریف صاحب کی محبت میں اس قدرتگ ودوکی تھی وہ اسی پریشانی میں ضرور مستعفی ھونگےمگر میری حیرت کی انتہا نہ رھی جب دُوسرے دن اُسی شخص کابیان میری نظروں سےگُزرا جس میں اُنہوں نے نواز شریف کے فیصلے کو انتہائی مُدبِّرانہ فیصلہ قرار دیتےھُوئے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا
لگا کے آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا
اُٹھا ھے دِل میں تماشے کا آج شوق بہت
جُھکا کے سر کو سبھی شاہ پرست بول اُٹھے
حُضوُر شوق سلامت، کہ شہر اور بہت
No comments:
Post a Comment